شارق کیفی — شاعر کی تصویر

مجرم ہونے کی مجبوری — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

مجرم ہونے کی مجبوری

وضو جائے تو جائے
فرشتے کچھ بھی لکھ لیں نامۂ اعمال میں میرے
مگر منہ سے مرے گالی تو نکلے گی
اگر اس تولیے میں چیونٹیاں ہوں گی
تھکن سے چور ہو کر
جس سے ماتھے کا پسینہ پونچھتا ہوں میں

mujrim hone ki majburi

vazū jaa.e to jaa.e
farishte kuchh bhī likh leñ nāma-e-āmāl meñ mere
magar muñh se mire gaalī to niklegī
agar is tauliye meñ chyūñTiyāñ hoñgī
thakan se chuur ho kar
jis se māthe kā pasīna poñchhtā huuñ maiñ

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام