نہ کہو علاج کیا نہیں
رہا فائدہ سو ہوا نہیں
مجھے صرف اس کی سزا ملی
کہ میں بے گناہ لگا نہیں
یہی شکر ہے مرا فیصلہ
کسی اور دن پہ ٹلا نہیں
اسے یار کہیے تو کس طرح
جو تھا گھر میں اور ملا نہیں
جو سنا وہ سننے کا ڈھونگ تھا
جو کہا وہ یاد رہا نہیں
مرے نام لاکھ شکار ہوں
پہ یہ جال میں نے بنا نہیں
بلا وجہ آفتیں مول لیں
کہیں دور جانے کا تھا نہیں
شارق کیفی
na kaho 'ilāj kiyā nahīñ
rahā fā.eda so huā nahīñ
mujhe sirf is kī sazā milī
ki maiñ be-gunāh lagā nahīñ
yahī shukr hai mirā faisla
kisī aur din pe Talā nahīñ
use yaar kahiye to kis tarah
jo thā ghar meñ aur milā nahīñ
jo sunā vo sunñe kā Dhoñg thā
jo kahā vo yaad rahā nahīñ
mire naam laakh shikār hoñ
pa ye jaal maiñ ne bunā nahīñ
bilā-vaj.h āfateñ mol liiñ
kahīñ daur jaane kā thā nahīñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں