فرق تو پڑنا تھا یاری میں
اتنی لمبی بیماری میں
محفل کا کیا لطف اٹھائیں
تھک جاتے ہیں تیاری میں
یہ بھی خود میں ایک سزا ہے
اتنی دیر گرفتاری میں
حامی تھے ترتیب کے لیکن
بھول گئے اپنی باری میں
اس سے بڑی مشکل کیا ہوگی
میرا خدا ہے دشواری میں
یوں بھی کم رسوائی ہوئی ہے
اچھے تھے دنیاداری میں
شارق کیفی
nahīñ himmat to aisā kījiyegā
sharāfat se guzāra kījiyegā
vagarna ham kabhī raazī na hoñge
hameñ dhoke se achchhā kījiyegā
vo zehnoñ kā safar jo rah gayā thā
use raste meñ puurā kījiyegā
mire hī vāste ye dard kam hai
kahāñ duniyā se hissa kījiyegā
chunā hai aap ko sau dushmanoñ meñ
javābī vaar achchhā kījiyegā
bahut mushkil hunar hai bevafā.ī
isī meñ naam paidā kījiyegā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں