نہیں میں حوصلہ تو کر رہا تھا
ذرا تیرے سکوں سے ڈر رہا تھا
اچانک جھینپ کر ہنسنے لگا میں
بہت رونے کی کوشش کر رہا تھا
بھنور میں پھر ہمیں کچھ مشغلے تھے
وہ بیچارہ تو ساحل پر رہا تھا
لرزتے کانپتے ہاتھوں سے بوڑھا
چلم میں پھر کوئی دکھ بھر رہا تھا
اچانک لو اٹھی اور جل گیا میں
بجھی کرنوں کو یکجا کر رہا تھا
گلہ کیا تھا اگر سب ساتھ ہوتے
وہ بس تنہا سفر سے ڈر رہا تھا
غلط تھا روکنا اشکوں کو یوں بھی
کہ بنیادوں میں پانی مر رہا تھا
شارق کیفی
nahīñ maiñ hausla to kar rahā thā
zarā tere sukūñ se Dar rahā thā
achānak jheñp kar hañsne lagā maiñ
bahut rone kī koshish kar rahā thā
bhañvar meñ phir hameñ kuchh mashġhale the
vo bechāra to sāhil par rahā thā
larazte kāñpte hāthoñ se būḌhā
chilam meñ phir koī dukh bhar rahā thā
achānak lau uThī aur jal gayā maiñ
bujhī kirnoñ ko yakjā kar rahā thā
gila kyā thā agar sab saath hote
vo bas tanhā safar se Dar rahā thā
ġhalat thā roknā ashkoñ ko yuuñ bhī
ki buniyādoñ meñ paanī mar rahā thā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں