نہیں پائی جھلک بھی دل ربا کی
عجب ویران محفل تھی خدا کی
گنے جاتے نہیں دن رات ہم سے
سہولت دو ہمیں لمبی سزا کی
وہ گھر پہلے سے اچھا بن گیا ہے
مگر دہشت نہیں جاتی گھٹا کی
ابھی دیکھی ہے کھڑکی کھول کے نبض
بلا کی تیز دھڑکن ہے ہوا کی
ترا ہونا ہی کافی ہے شفا کو
ضرورت اب نہیں ہم کو دوا کی
شارق کیفی
nahīñ paa.ī jhalak bhī dilrubā kī
'ajab vīrān mahfil thī ḳhudā kī
gine jaate nahīñ din-rāt ham se
suhūlat do hameñ lambī sazā kī
vo ghar pahle se achchhā ban gayā hai
magar dahshat nahīñ jaatī ghaTā kī
abhī dekhī hai khiḌkī khol ke nabz
balā kī tez dhaḌkan hai havā kī
tirā honā hī kaafī hai shifā ko
zarūrat ab nahīñ ham ko davā kī
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں