شارق کیفی — شاعر کی تصویر

نظم — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

نظم

اک برس اور کٹ گیا شارقؔ
روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے
سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے
یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے
اور سب سے بڑا کمال ہے یہ
سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا
اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا

nazm

ik baras aur kaT gayā 'shāriq'
roz sāñsoñ kī jang laḌte hue
sab ko apne ḳhilāf karte hue
yaar ko bhūlne se Darte hue
aur sab se baḌā kamāl hai ye
sāñseñ lene se dil nahīñ bhartā
ab bhī marne ko jī nahīñ kartā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام