نگاہ نیچی ہوئی ہے میری
یہ ٹوٹنے کی گھڑی ہے میری
پلٹ پلٹ کر جو دیکھتا ہوں
کوئی صدا ان سنی ہے میری
یہ کام دونوں طرف ہوا ہے
اسے بھی عادت پڑی ہے میری
تمام چہروں کو ایک کر کے
عجیب صورت بنی ہے میری
وہیں پہ لے جائے گی یہ مٹی
جہاں سواری کھڑی ہے میری
شارق کیفی
nigāh nīchī huī hai merī
ye TūTne kī ghaḌī hai merī
palaT palaT kar jo dekhtā huuñ
koī sadā an-sunī hai merī
ye kaam donoñ taraf huā hai
use bhī aadat paḌī hai merī
tamām chehroñ ko ek kar ke
ajiib sūrat banī hai merī
vahīñ pe le jā.egī ye miTTī
jahāñ savārī khaḌī hai merī
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں