شارق کیفی — شاعر کی تصویر

پڑتا رہتا ہے اکثر یہ دورہ مجھ پر — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

پڑتا رہتا ہے اکثر یہ دورہ مجھ پر

پڑتا رہتا ہے اکثر یہ دورہ مجھ پر
میں دنیا پر تھوک رہا ہوں دنیا مجھ پر
دو پل بیٹھ نہ پایا اپنوں کی محفل میں
ہر رشتے نے اتنا قرض نکالا مجھ پر
تھوڑی دیر کو میں بھی اچھا لگ سکتا تھا
پہنا لیکن نہیں جچا یہ چہرہ مجھ پر
کھیل ہے سارا پیار بھری نظروں کا تیری
کوئی بھی کرتا لگ سکتا ہے اچھا مجھ پر
میں نے اس سے کہیں زیادہ لوٹایا ہے
اس دنیا نے جتنا خرچ کیا تھا مجھ پر
اس کے تو کھڑکی دروازے بند تھے سارے
تیز ہوا نے سارا زور نکالا مجھ پر

paDta rahta hai aksar ye daura mujh par

paḌtā rahtā hai aksar ye daura mujh par
maiñ duniyā par thuuk rahā huuñ duniyā mujh par
do pal baiTh na paayā apnoñ kī mahfil meñ
har rishte ne itnā qarz nikālā mujh par
thoḌī der ko maiñ bhī achchhā lag saktā thā
pahnā lekin nahīñ jachā ye chehra mujh par
khel hai saarā pyār-bharī nazroñ kā terī
koī bhī kurtā lag saktā hai achchhā mujh par
maiñ ne us se kahīñ ziyāda lauTāyā hai
is duniyā ne jitnā ḳharch kiyā thā mujh par
us ke to khiḌkī darvāze band the saare
tez havā ne saarā zor nikālā mujh par

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام