پتہ ہے آشنا دنیا ہے تم سے
مگر میرا بھی کچھ رشتہ ہے تم سے
نمی سی آنکھ میں رہتی ہے ہر دم
یہ صحرا آج بھی دریا ہے تم سے
نگاہوں سے کبھی اوجھل نہ ہونا
کوئی اپنی خبر رکھتا ہے تم سے
بہت مقبول ہیں کچھ جھوٹ میرے
انہیں میں ایک وابستہ ہے تم سے
کہو لب سے اگر انکار بھی ہے
مجھے شاید یہی سننا ہے تم سے
ذرا سا پیار ہی تو چاہتا ہوں
بتاؤ اور کیا جھگڑا ہے تم سے
بھروسہ اٹھ گیا لفظوں سے میرا
مجھے اب کچھ نہیں کہنا ہے تم سے
شارق کیفی
pata hai āshnā duniyā hai tum se
magar merā bhī kuchh rishta hai tum se
namī sī aañkh meñ rahtī hai har dam
ye sahrā aaj bhī dariyā hai tum se
nigāhoñ se kabhī ojhal na honā
koī apnī ḳhabar rakhtā hai tum se
bahut maqbūl haiñ kuchh jhuuT mere
unhīñ meñ ek vābasta hai tum se
kaho lab se agar inkār bhī hai
mujhe shāyad yahī sunñā hai tum se
zarā sā pyaar hī to chāhtā huuñ
batāo aur kyā jhagḌā hai tum se
bharosa uTh gayā lafzoñ se merā
mujhe ab kuchh nahīñ kahnā hai tum se
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں