شارق کیفی — شاعر کی تصویر

لگی جو دیر مجھے آپ کو منانے میں — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

لگی جو دیر مجھے آپ کو منانے میں

لگی جو دیر مجھے آپ کو منانے میں
جھجھک رہا تھا میں اپنے خلاف جانے میں
تمام عمر یہی سوچ کر رہا خاموش
لگا ہے کوئی مرا صبر آزمانے میں
نہیں ہے یوں تو کسی کام کا دل ناکام
لگا ہوا ہوں اسے کام کا بنانے میں
وہاں کھلے میں نہ اٹھتا تھا آسمان کا بوجھ
یہاں سرنگ بناتا ہوں قید خانے میں
جو سچ کہیں تو ہمیں کوئی غم نہیں لیکن
عجیب سکھ ہے اداسی کے گیت گانے میں

phir kahin zikr kiya hai us ka

phir kahīñ zikr kiyā hai us kā
jaane kyā naam liyā hai us kā
jaane vaale ko pata thā shāyad
bevafā.ī meñ bhalā hai us kā
dekh ye vaqt nahīñ chūmne kā
dil 'ibādat meñ paḌā hai us kā
jitnī tāsīr baḌhī hai us kī
zā.iqa talḳh huā hai us kā
ab mire dil meñ nahīñ rahtā vo
ye to pahle kā pata hai us kā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام