شارق کیفی — شاعر کی تصویر

قصوروار نہ ٹھہرائیے خدا کے لئے — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

قصوروار نہ ٹھہرائیے خدا کے لئے

قصوروار نہ ٹھہرائیے خدا کے لئے
ہمارا بوجھ زیادہ تھا اس ہوا کے لئے
ہوئی وہ عشق میں حالت کہ مسجدوں میں تمام
ہمارا نام پکارا گیا دعا کے لئے
ملال دل میں اگر کوئی ہے تو اتنا ہے
کہ میری عمر زیادہ تھی اس خطا کے لئے
کھلا کہ ہم ہی نہیں ہیں گناہ گار ترے
قطار بند ہوئے لوگ جب سزا کے لئے
چلے تو آئے ہو مرنے کو اسپتالوں میں
ذرا سی دھول کو ترسو گے نقش پا کے لئے
ذرا سی بات تھی تجھ سے مجھے ملانا تھا
یہ کام اتنا بڑا ہو گیا خدا کے لئے

qusur-war na Thahraiye KHuda ke liye

qusūr-vār na Thahrā.iye ḳhudā ke liye
hamārā bojh ziyāda thā is havā ke liye
huī vo 'ishq meñ hālat ki masjidoñ meñ tamām
hamārā naam pukārā gayā du'ā ke liye
malāl dil meñ agar koī hai to itnā hai
ki merī 'umr ziyāda thī us ḳhatā ke liye
khulā ki ham hī nahīñ haiñ gunāhgār tire
qatār-band hue log jab sazā ke liye
chale to aa.e ho marne ko aspatāloñ meñ
zarā sī dhuul ko tarsoge naqsh-e-pā ke liye
zarā sī baat thī tujh se mujhe milānā thā
ye kaam itnā baḌā ho gayā ḳhudā ke liye

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام