رونا ہو آسان ہمارا
اتنا کر نقصان ہمارا
بات نہیں کرنی تو مت کر
چہرہ تو پہچان ہمارا
خوش فہمی ہو جائے گی ہم کو
مت رکھ اتنا دھیان ہمارا
پہلی چوٹ میں جان گئے ہم
عشق نہیں میدان ہمارا
موت نے آ کر باندھ لیا تھا
پہلے ہی سامان ہمارا
جیت گیا تیرا بھولا پن
ہار گیا شیطان ہمارا
شارق کیفی
ronā ho āsān hamārā
itnā kar nuqsān hamārā
baat nahīñ karnī to mat kar
chehra to pahchān hamārā
ḳhush-fahmī ho jā.egī ham ko
mat rakh itnā dhyān hamārā
pahlī choT meñ jaan ga.e ham
'ishq nahīñ maidān hamārā
maut ne aa kar bāñdh liyā thā
pahle hī sāmān hamārā
jiit gayā terā bholā-pan
haar gayā shaitān hamārā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں