سب یار مرے خوب کمانے میں لگے تھے
ہم پچھلی کمائی کو لٹانے میں لگے تھے
وہ چھت بھی گئی سر سے جو دنیا تھی ہماری
ہم کون سی دنیا کو بچانے میں لگے تھے
رونے کو جنہیں آج سجائی ہے یہ محفل
اچھے وہ کسی اور زمانہ میں لگے تھے
کس سچ کا انہیں سامنا کرنے سے تھا انکار
کیوں لوگ مرا جھوٹ چھپانے میں لگے تھے
معصوم تھے اتنے کہ جدا ہونے کے دن بھی
پھولوں سے ترے گھر کو سجانے میں لگے تھے
بیٹھے تھے سبھی دل کے دریچوں کو کیے بند
اور گھر کو ہوا دار بنانے میں لگے تھے
میں کس کو وہاں قید کی روداد سناتا
سب اپنے گرفتار گنانے میں لگے تھے
شارق کیفی
sab yaar mire ḳhuub kamāne meñ lage the
ham pichhlī kamā.ī ko luTāne meñ lage the
vo chhat bhī ga.ī sar se jo duniyā thī hamārī
ham kaun sī duniyā ko bachāne meñ lage the
rone ko jinheñ aaj sajā.ī hai ye mahfil
achchhe vo kisī aur zamāne meñ lage the
kis sach kā unheñ sāmnā karne se thā inkār
kyoñ log mirā jhūTh chhupāne meñ lage the
mā'sūm the itne ki judā hone ke din bhī
phūloñ se tire ghar ko sajāne meñ lage the
baiThe the sabhī dil ke darīchoñ ko kiye band
aur ghar ko havā-dār banāne meñ lage the
maiñ kis ko vahāñ qaid kī rūdād sunātā
sab apne giraftār gināne meñ lage the
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں