سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے
جھوٹ کما کر لاتا ہے
یاد بھی کوئی آتا ہے
یاد تو رکھا جاتا ہے
جیسے لفظ ہوں ویسا ہی
منہ کا مزہ ہو جاتا ہے
پھر دشمن بڑھ جائیں گے
کس کو دوست بناتا ہے
کیسی خشک ہوائیں ہیں
صبح سے دن چڑھ جاتا ہے
اسے گھٹا کر دنیا میں
باقی کیا رہ جاتا ہے
جانے وہ اس چہرہ پر
کس کا دھوکہ کھاتا ہے
عشق سے بڑھ کر کون ہمیں
دنیا دار بناتا ہے
دل جیسا معصوم بھی آج
اپنی عقل چلاتا ہے
کچھ تو ہے جو صرف یہاں
میری سمجھ میں آتا ہے
مشکل سن لی جاتی ہے
کوئی کرم فرماتا ہے
شارق کیفی
sach to baiTh ke khātā hai
jhūTh kamā kar laatā hai
yaad bhī koī aatā hai
yaad to rakkhā jaatā hai
jaise lafz hoñ vaisā hī
muñh kā maza ho jaatā hai
phir dushman baḌh jā.eñge
kis ko dost banātā hai
kaisī ḳhushk havā.eñ haiñ
sub.h se din chaḌh jaatā hai
use ghaTā kar duniyā meñ
baaqī kyā rah jaatā hai
jaane vo is chehre par
kis kā dhoka khātā hai
ishq se baḌh kar kaun hameñ
duniyā-dār banātā hai
dil jaisā ma.asūm bhī aaj
apnī aql chalātā hai
kuchh to hai jo sirf yahāñ
merī samajh meñ aatā hai
mushkil sun lī jaatī hai
koī karam farmātā hai
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں