سامنے اپنے کھڑے ہو جائیں گے
ہم کبھی اتنے بڑے ہو جائیں گے
دور سارے مسئلے ہو جائیں گے
پھر سے ہم اچھے بھلے ہو جائیں گے
جب بدل جائیں گے محفل کے شریک
آپ کے جادو نئے ہو جائیں گے
شکر ہے اپنے سفر چھوٹے نہیں
بیشتر سوتے ہوئے ہو جائیں گے
غم کہ جو رونے سے بچ جائیں گے آج
دوسرے دن کے لیے ہو جائیں گے
روزمرہ سے نکل کر ہم ترے
بس ضروری کام کے ہو جائیں گے
شارق کیفی
sāmne apne khaḌe ho jā.eñge
ham kabhī itne baḌe ho jā.eñge
duur saare mas.ale ho jā.eñge
phir se ham achchhe-bhale ho jā.eñge
jab badal jā.eñge mahfil ke sharīk
aap ke jaadū na.e ho jā.eñge
shukr hai apne safar chhūTe nahīñ
besh-tar sote hue ho jā.eñge
ġham ki jo rone se bach jā.eñge aaj
dūsre din ke liye ho jā.eñge
roz-marra se nikal kar ham tire
bas zarūrī kaam ke ho jā.eñge
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں