شکوہ اک الزام ہو شاید
وہ یوں ہی بد نام ہو شاید
اس کے علاوہ بھی کچھ سوچو
کروٹ سے آرام ہو شاید
آؤ ہوا کے رخ پر بیٹھیں
اس کا کوئی پیغام ہو شاید
دن غیروں میں گزارہ تو کیا
شام ہمارے نام ہو شاید
پیار ترا انمول ہے لیکن
کل یہ بھی نیلام ہو شاید
غور سے سن سب افواہوں کو
شارقؔ تیرا نام ہو شاید
شارق کیفی
shikva ik ilzām ho shāyad
vo yūñhī badnām ho shāyad
us ke 'alāva bhī kuchh socho
karvaT se ārām ho shāyad
aao havā ke ruḳh par baiTheñ
us kā koī paiġhām ho shāyad
din ġhairoñ meñ guzāra to kyā
shaam hamāre naam ho shāyad
pyaar tirā anmol hai lekin
kal ye bhī nīlām ho shāyad
ġhaur se sun sab afvāhoñ ko
'shāriq' terā naam ho shāyad
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں