صرف گھٹن کم کر جاتے ہیں
سب طوفان اتر جاتے ہیں
یہ کچھ دیر کو ملنے والے
کتنا تنہا کر جاتے ہیں
وقت کہاں آگے بڑھتا ہے
ہاں ہم لوگ گزر جاتے ہیں
اس کے بھروسے جینے والے
کتنے سکوں سے مر جاتے ہیں
ہم تو اس مخلوق سے اپنے
رشتے سن کر ڈر جاتے ہیں
شارق کیفی
sirf ghuTan kam kar jaate haiñ
sab tūfān utar jaate haiñ
ye kuchh der ko milne vaale
kitnā tanhā kar jaate haiñ
vaqt kahāñ aage baḌhtā hai
haañ ham log guzar jaate haiñ
us ke bharose jiine vaale
kitne sukūñ se mar jaate haiñ
ham to is maḳhlūq se apne
rishte sun kar Dar jaate haiñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں