تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا
میرے اشکوں میں ترا حصہ رہے گا
دور تک کوئی شناسا ہو نہیں ہو
بھیڑ میں اچھا مگر لگتا رہے گا
ایسے چھٹکارا نہیں دینا ہے اس کو
میں اگر مر جاؤں تو کیسا رہے گا
طے تو ہے الگاؤ بس یہ سوچنا ہے
کون سی رت میں یہ دکھ اچھا رہے گا
خود سے میری صلح ممکن ہی نہیں ہے
جب تلک اس گھر میں آئینہ رہے گا
یوں تو اب بستر ہے اور بیمار لیکن
سانس لینے میں مزہ آتا رہے گا
میں نے کتنے دن کسی کو یاد رکھا
وہ بھی کیوں میرے لئے روتا رہے گا
شارق کیفی
tan se jab tak saañs kā rishta rahegā
mere ashkoñ meñ tirā hissa rahegā
duur tak koī shanāsā ho nahīñ ho
bhiiḌ meñ achchhā magar lagtā rahegā
aise chhuTkārā nahīñ denā hai us ko
maiñ agar mar jā.ūñ to kaisā rahegā
tai to hai algāv bas ye sochnā hai
kaun sī rut meñ ye dukh achchhā rahegā
ḳhud se merī sulh mumkin hī nahīñ hai
jab talak is ghar meñ ā.īna rahegā
yuuñ to ab bistar hai aur bīmār lekin
saañs lene meñ maza aatā rahegā
maiñ ne kitne din kisī ko yaad rakkhā
vo bhī kyuuñ mere liye rotā rahegā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں