شارق کیفی — شاعر کی تصویر

ترے غم سے ابھرنا چاہتا ہوں — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

ترے غم سے ابھرنا چاہتا ہوں

ترے غم سے ابھرنا چاہتا ہوں
میں اپنی موت مرنا چاہتا ہوں
دھدھکتی آگ ہے سائے میں جس کے
پسینہ خشک کرنا چاہتا ہوں
یہ فن اتنا مگر آساں کہاں ہے
ضرورت بھر بکھرنا چاہتا ہوں
نہیں ڈھونا یہ بوڑھا جسم مجھ کو
سواری سے اترنا چاہتا ہوں
کسی کی نبض پر ہو ہاتھ میرا
علاج اپنا ہی کرنا چاہتا ہوں
تبھی میں مشورہ کرتا ہوں سب سے
جب اپنے دل کی کرنا چاہتا ہوں
خدا جانے اسے کھونے سے شارقؔ
میں ڈرتا ہوں کہ ڈرنا چاہتا ہوں

tere gham se ubharna chahta hun

tire ġham se ubharnā chāhtā huuñ
maiñ apnī maut marnā chāhtā huuñ
dhadhaktī aag hai saa.e meñ jis ke
pasīna ḳhushk karnā chāhtā huuñ
ye fan itnā magar āsāñ kahāñ hai
zarūrat bhar bikharnā chāhtā huuñ
nahīñ Dhonā ye būḌhā jism mujh ko
savārī se utarnā chāhtā huuñ
kisī kī nabz par ho haath merā
'ilāj apnā hī karnā chāhtā huuñ
tabhī maiñ mashvara kartā huuñ sab se
jab apne dil kī karnā chāhtā huuñ
ḳhudā jaane use khone se 'shāriq'
maiñ Dartā huuñ ki Darnā chāhtā huuñ

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام