شارق کیفی — شاعر کی تصویر

تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے

تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے؟
یہ میں ہوں کیا؟
جو سب ہم راہیوں سے
بے سبب لڑتا جھگڑتا پھر رہا ہوں
سیٹ کی خاطر
اک ایسی ٹرین میں
چنا تھا جس کو تھوڑی دیر پہلے
خودکشی کرنے کو میں نے

to kya marna bhi ab mumkin nahin hai

to kyā marnā bhī ab mumkin nahīñ hai?
ye maiñ huuñ kyaa?
jo sab ham-rāhiyoñ se
be-sabab laḌtā-jhagaḌtā phir rahā huuñ
seat kī ḳhātir
ik aisī train meñ
chunā thā jis ko thoḌī der pahle
ḳhud-kushī karne ko maiñ ne

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام