ایک سگریٹ نہیں جیب میں
لیٹ ہونے کا مطلب
بجھانا ہے اب بیڑیاں مانگ کر مجھ کو اپنی طلب
پھر چلی
دو قدم چل کے پھر رک گئی میری چھکڑا سی ٹرین
کیا ہوا پوچھتا ہوں
کراس ہے کئی کہتا ہے مجھ سے
اور میں
پھر سے اک بار نیچے اتر کر
ٹہلنے لگا
پٹریوں کے کنارے پڑے پتھروں پر
بڑبڑاتا ہوا
یوں تو جلدی پہنچ کے بھی گھر
کام کوئی نہیں ہے
مگر اس سے کیا
عمر تو میری محدود ہے
اور جب عمر محدود ہے
کوئی کیسے گھڑی کی طرف دیکھنا چھوڑ دے
شارق کیفی
ek cigarette nahīñ jeb meñ
laTe hone kā matlab
bujhānā hai ab bīḌiyāñ maañg kar mujh ko apnī talab
phir chalī
do qadam chal ke phir ruk ga.ī merī chhakḌā sī train
kyā huā pūchhtā huuñ
cross hai koī kahtā hai mujh se
aur maiñ
phir se ik baar nīche utar kar
Tahalne lagā
paTriyoñ ke kināre paḌe pattharoñ par
baḌbaḌātā huā
yuuñ to jaldī pahuñch ke bhī ghar
kaam koī nahīñ hai
magar is se kyā
'umr to merī mahdūd hai
aur jab 'umr mahdūd hai
koī kaise ghaḌī kī taraf dekhnā chhoḌ de
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں