شارق کیفی — شاعر کی تصویر

اسے بھی کوئی مشغلہ چاہیے تھا — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

اسے بھی کوئی مشغلہ چاہیے تھا

اسے بھی کوئی مشغلہ چاہیے تھا
ہمیں بھی کوئی دوسرا چاہیے تھا
ہمارے بدن میں تھی مٹی کی خوشبو
اور اس کو کوئی دیوتا چاہیے تھا
مصیبت تو یہ تھی کہ میرے علاوہ
اسے اور سب کچھ نیا چاہیے تھا
ہر آرام گھر میں میسر تھا لیکن
بدن کو تھکن کا نشہ چاہیے تھا
ذرا سی لگن اور خدا کا بھروسہ
بس اس کے سوا ہم کو کیا چاہیے تھا

use bhi koi mashghala chahiye tha

use bhī koī mashġhala chāhiye thā
hameñ bhī koī dūsrā chāhiye thā
hamāre badan meñ thī miTTī kī ḳhushbū
aur us ko koī devtā chāhiye thā
musībat to ye thī ki mere 'alāva
use aur sab kuchh nayā chāhiye thā
har ārām ghar meñ mayassar thā lekin
badan ko thakan kā nasha chāhiye thā
zarā sī lagan aur ḳhudā kā bharosa
bas is ke sivā ham ko kyā chāhiye thā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام