شارق کیفی — شاعر کی تصویر

ولیمہ ختم ہونے کے بعد — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

ولیمہ ختم ہونے کے بعد

خدا جانے
بلاوے ٹھیک سے بانٹے نہیں لڑکے نے
یا مجھ سے
پرانی دشمنی کوئی نکالی ہے گلی والوں نے میرے
نہ آ کر
جو کھانا بچ گیا اتنا
بہ ہر صورت مجھے کیا فرق پڑتا ہے
وہ جس کو سانس کا آزار ہو
اس کو بھلا زردے سے بریانی سے کیا مطلب
کہیں بانٹو اسے میری بلا سے
مگر جو لکڑیاں تندور کی باقی بچی ہیں
یہ کہیں پر دھیان سے رکھ دو
اسی جاڑے میں ممکن ہے تمہیں ان کی ضرورت ہو
نہ جانے کیوں
ہمیشہ سے مجھے لگتا ہے میری موت کے دن
رات کو کہرہ بہت ہو گا

walima KHatm hone ke baad

ḳhudā jaane
bulāve Thiik se bāñTe nahīñ laḌke ne
yā mujh se
purānī dushmanī koī nikālī hai galī vāloñ ne mere
na aa kar
jo khānā bach gayā itnā
ba-har-sūrat mujhe kyā farq paḌtā hai
vo jis ko saañs kā āzār ho
us ko bhalā zarde se biryānī se kyā matlab
kahīñ bāñTo ise merī balā se
magar jo lakḌiyāñ tandūr kī baaqī bachī haiñ
ye kahīñ par dhyān se rakh do
isī jaaḌe meñ mumkin hai tumheñ in kī zarūrat ho
na jaane kyoñ
hamesha se mujhe lagtā hai merī maut ke din
raat ko kohra bahut hogā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام