وار پر وار کر رہا ہوں میں
کچھ زیادہ ہی ڈر گیا ہوں میں
کوئی مجبور ہی گزرتا ہے
ایسا ویران راستہ ہوں میں
اف اداسی یہ میری آنکھوں کی
کس قدر جھوٹ بولتا ہوں میں
یہ تو مجھ پر تری نہیں سے کھلا
کتنا آسان فیصلہ ہوں میں
یار سب اٹھ کے جا چکے لیکن
اپنے سر سے نہیں ٹلا ہوں میں
آنکھ کھلنے سے دفن ہونے تک
جانے کس کس کا مسئلہ ہوں میں
وقت کی گہری کھائی ہے نیچے
اور کنارے ہی پہ کھڑا ہوں میں
شارق کیفی
vaar par vaar kar rahā huuñ maiñ
kuchh ziyāda hī Dar gayā huuñ maiñ
koī majbūr hī guzartā hai
aisā vīrān rāsta huuñ maiñ
uf udāsī ye merī āñkhoñ kī
kis qadar jhūTh boltā huuñ maiñ
ye to mujh par tirī nahīñ se khulā
kitnā āsān faisla huuñ maiñ
yaar sab uTh ke jā chuke lekin
apne sar se nahīñ Talā huuñ maiñ
aañkh khulne se dafn hone tak
jaane kis kis kā mas.ala huuñ maiñ
vaqt kī gahrī khaa.ī hai nīche
aur kināre hī pe khaḌā huuñ maiñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں