شارق کیفی — شاعر کی تصویر

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے
کہ مرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہے
وہی بکرا
کھڑا رکھا گیا ہے جس کو کونے میں نگاہوں سے چھپا کر
وہ جس کی زندگی ہے منحصر اس بات پر
کہ ہم کھائیں گے کتنا
اور کتنا چھوڑ دیں گے بس یوں ہی اپنی پلیٹوں میں
ابھی کچھ دیر پہلے میں کھڑا تھا پاس جس کے
اور جس کے زاویے سے دیکھ کر محفل کو
آنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں میری
مگر وہ پل کبھی کا جا چکا تھا
کہ اب ہوں میز پر میں
اور میرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہے
وہ بکر پھر اکیلا پڑ گیا ہے

wo bakra phir akela paD gaya hai

vo bakrā phir akelā paḌ gayā hai
ki mirā haath bhī Doñge meñ achchhī boTiyoñ ko DhūñDtā hai
vahī bakrā
khaḌā rakkhā gayā hai jis ko kone meñ nigāhoñ se chhupā kar
vo jis kī zindagī hai munhasir is baat par
ki ham khā.eñge kitnā
aur kitnā chhoḌ deñge bas yuuñ hī apnī paleToñ meñ
abhī kuchh der pahle maiñ khaḌā thā paas jis ke
aur jis ke zāviye se dekh kar mahfil ko
āñkheñ DabDabā aa.ī thiiñ merī
magar vo pal kabhī kā jā chukā thā
ki ab huuñ mez par maiñ
aur merā haath bhī Doñge meñ achchhī boTiyoñ ko DhūñDtā hai
vo bakrā phir akelā paḌ gayā hai

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام