شارق کیفی — شاعر کی تصویر

یار کا کردار آئینہ نبھا سکتا نہیں — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

یار کا کردار آئینہ نبھا سکتا نہیں

یار کا کردار آئینہ نبھا سکتا نہیں
یہ تماشہ دیکھ سکتا ہے دکھا سکتا نہیں
اتنی باتیں کر چکا ہوں اک خیالی یار کی
عشق پہلا ہے مگر پہلا بتا سکتا نہیں
سب کتابوں میں رکھے وہ پھول اب بے کار ہیں
میں پرانی دھوپ میں جن کو کھلا سکتا نہیں
اب بہت مشکل ہے پیچھا چھوٹنا مجھ سے ترا
بے وفا ہونا بھی تیرے کام آ سکتا نہیں
سسکیوں میں ساتھ دے سکتا ہے رونا ہو جسے
قہقہہ اس کے لئے جو مسکرا سکتا نہیں
تیری جتنی پینے والے تو بہت ہوں گے مگر
تیرے جیسا کوئی شارقؔ لڑکھڑا سکتا نہیں

yar ka kirdar aaina nibha sakta nahin

yaar kā kirdār ā.īna nibhā saktā nahīñ
ye tamāsha dekh saktā hai dikhā saktā nahīñ
itnī bāteñ kar chukā huuñ ik ḳhayālī yaar kī
'ishq pahlā hai magar pahlā batā saktā nahīñ
sab kitāboñ meñ rakhe vo phuul ab bekār haiñ
maiñ purānī dhuup meñ jin ko khilā saktā nahīñ
ab bahut mushkil hai pīchhā chhūTnā mujh se tirā
bevafā honā bhī tere kaam aa saktā nahīñ
siskiyoñ meñ saath de saktā hai ronā ho jise
qahqaha us ke liye jo muskurā saktā nahīñ
terī jitnī piine vaale to bahut hoñge magar
tere jaisā koī 'shāriq' laḌkhaḌā saktā nahīñ

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام