شارق کیفی — شاعر کی تصویر

یہ پتھر تو اک دن پگھل جائے گا — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

یہ پتھر تو اک دن پگھل جائے گا

یہ پتھر تو اک دن پگھل جائے گا
ہمارا زمانہ نکل جائے گا
مجھے خود کشی پر نہ راضی کرو
مرا کام دنیا سے چل جائے گا
ترا گھر ہمیشہ رہے گا یہاں
نگاہوں کا پہرہ بدل جائے گا
زمانہ کا بچھڑا ہوا یار بھی
اگر اب رکے گا تو کھل جائے گا
یہی خط تجھے پھر سے بھیجیں گے ہم
مگر جب ترا حسن ڈھل جائے گا
وہی ہے دلاسہ وہی آس ہے
بدل جائے گا سب بدل جائے گا

ye patthar to ek din pighal jaega

ye patthar to ik din pighal jā.egā
hamārā zamāna nikal jā.egā
mujhe ḳhud-kushī par na raazī karo
mirā kaam duniyā se chal jā.egā
tirā ghar hamesha rahegā yahāñ
nigāhoñ kā pahra badal jā.egā
zamāne kā bichhḌā huā yaar bhī
agar ab rukegā to khal jā.egā
yahī ḳhat tujhe phir se bhejeñge ham
magar jab tirā husn Dhal jā.egā
vahī hai dilāsa vahī aas hai
badal jā.egā sab badal jā.egā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام