شارق کیفی — شاعر کی تصویر

گھروں میں چھپ کے نہ بیٹھو کہ رت سہانی ہے — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

گھروں میں چھپ کے نہ بیٹھو کہ رت سہانی ہے

گھروں میں چھپ کے نہ بیٹھو کہ رت سہانی ہے
چھتوں پہ آؤ کہ ساون کا پہلا پانی ہے
وفائیں آج بھی خوں مانگتی ہیں خوابوں کا
سزا کے ڈھنگ نئے ہیں سزا پرانی ہے
یہ حادثات تو بچپن سے ساتھ ہیں میرے
تمہارا غم تو بہت بعد کی کہانی ہے
کسی خیال کی پھر تمکنت ہے چہرہ پر
کسی کے سرخ دوپٹے سے دھوپ چھانی ہے

zara si baat par ghabrane wale

zarā sī baat par ghabrāne vaale
'ajab ham ko mile samjhāne vaale
hameñ to rāt-bhar ko chāhiyeñ log
kahāñ haiñ baat ko uljhāne vaale
zamāne se nahīñ aa.e vo tūfāñ
hameñ sahrāoñ tak phailāne vaale
yahī to asl mujrim haiñ tumhāre
tumheñ mujrim nahīñ Thahrāne vaale
magar ye bol mīThe hī raheñge
badal jā.eñge in ko gaane vaale

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام