وحشت رضا علی — شاعر کی تصویر

نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے — وحشت رضا علی

شاعر

تعارف شاعری

نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے

نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے
دل فسردہ لیے جاتا ہے چمن سے مجھے
مثال شمع ہے رونا بھی اور جلنا بھی
یہی تو فائدہ ہے تیری انجمن سے مجھے
بڑھی ہے یاس سے کچھ ایسی وحشت خاطر
نکال کر ہی رہے گی یہ اب وطن سے مجھے
عزیز اگر نہیں رکھتا نہ رکھ ذلیل ہی رکھ
مگر نکال نہ تو اپنی انجمن سے مجھے
وطن سمجھنے لگا ہوں میں دشت غربت کو
زمانہ ہو گیا نکلے ہوئے وطن سے مجھے
مرے بھی داغ جگر مثل لالہ ہیں رنگیں
ہے چشمک اس گل خوبی کے بانکپن سے مجھے
چھپا نہ گوشہ نشینی سے راز دل وحشتؔ
کہ جانتا ہے زمانہ مرے سخن سے مجھے

Nahin ke ishq nahin hai gul-o-saman se mujhe

Nahin ke ishq nahin hai gul-o-saman se mujhe
Dil fasurda liye jaata hai chaman se mujhe
Misal-e-shama hai rona bhi aur jalna bhi
Yahi to fa'ida hai teri anjuman se mujhe
Badhi hai yaas se kuch aisi wahshat-e-khaatir
Nikaal kar hi rahegi ye ab watan se mujhe
Aziz agar nahin rakhta, na rakh zaleel hi rakh
Magar nikaal na tu apni anjuman se mujhe
Watan samajhne laga hoon main dasht-e-ghurbat ko
Zamana ho gaya nikle hue watan se mujhe
Mere bhi daagh-e-jigar misl-e-lala hain rangeen
Hai chashmak is gul-e-khubi ke baankpan se mujhe
Chhupa na gosha-nisheeni se raaz-e-dil Wahshat!
Ke jaanta hai zamana mere sukhan se mujhe

شاعر کے بارے میں

وحشت رضا علی

وحشت رضا علی کلکتوی اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد اور استادِ سخن تھے جن کا اصل نام سید رضا علی تھا جبکہ “وحشتؔ” ان کا تخلص تھا۔ وہ 18 نومبر 1881ء ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام