ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے
کلام: رند لکھنوی
ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطےکون مرتا ہے کسی کے واسطے
آدمی سہتا ہے کیا کیا ذلتیںنفس مردود شقی کے واسطے
لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی
مہمان شاعر: رند لکھنوی
ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطےکون مرتا ہے کسی کے واسطے
آدمی سہتا ہے کیا کیا ذلتیںنفس مردود شقی کے واسطے