24 اشعار

ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے

Hain ye saare jeete ji ke waaste

ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے

«ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے وقاراحسن نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطےکون مرتا ہے کسی کے واسطے

آدمی سہتا ہے کیا کیا ذلتیںنفس مردود شقی کے واسطے

ہم بھی جائیں گے سلیماں تک کبھیعرض کرنے اک پری کے واسطے

در بدر کوچوں میں ہم بھی پھر چکےایک حسن خانگی کے واسطے

کشت زار زعفراں سے کم نہیںرنگ زرد اپنا ہنسی کے واسطے

کیوں دیے ہیں تو نے قسام ازلرنج لاکھوں ایک جی کے واسطے

دو زکات حسن کچھ درویش کوہیں بڑے رتبے سخی کے واسطے

اک سے اک ہیں ایک سے لے لاکھ تکصف شکن مرد جری کے واسطے

غم نے اس درجہ کیا دل میں ہجومجا نہیں ہے خرمی کے واسطے

اور کیا ہو یار کی آنکھوں سے کامخلق ہیں جادوگری کے واسطے

یاد رکھنا شرط اور مشروط ہےآدمیت آدمی کے واسطے

رنج و اندوہ و ملال و درد و غمصدمے ہیں یہ آدمی کے واسطے

سبزۂ مدفن اگا تھا کیوں فلکآہوؤں کی کیا چری کے واسطے

لڑ گئے وہ اک ذرا سی بات میںپہروں روٹھے اک گھڑی کے واسطے

جی نہ گھبرائے ترا بے مشغلےعشق کر لے دل لگی کے واسطے

کیا مجھے پیدا کیا ہے اے خداان بتوں کی بندگی کے واسطے

بے کسی میرے لیے پیدا ہوئیمیں بنا ہوں بے کسی کے واسطے

بولا مرغ نامہ بر کو کر کے ذبحیہ سزا ہے ایلچی کے واسطے

دھگدگی میں جان اٹکی ہے مریہائے کس چمپا کلی کے واسطے

باریاب خلوت محبوب ہےکیا شرف ہے آرسی کے واسطے

مرقد تیرہ میں کافی ہے مجھےداغ سودا روشنی کے واسطے

کیجئے ہر دم عبث تن پروریاے اجل کس زندگی کے واسطے

خامۂ قدرت نے کھینچیں وہ بھویںراستی یہ ہے کجی کے واسطے

حشر کے دن رندؔ کو بخشائیویا علی روح نبی کے واسطے

— رند لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں