حسین ایسا تھا وہ کہ پڑتے نظر گیا دل
حسین ایسا تھا وہ کہ پڑتے نظر گیا دل
پھر اس نے اک دن زبان کھولی اتر گیا دل
بدلتے موسم سے لطف اندوز ہو رہا تھا
اچانک اس کا خیال آیا تو ڈر گیا دل
شروع دن سے ہی ہم نے مجنوں کی پیروی کی
شروع دن سے ادھر چلے ہم جدھر گیا دل
ذرا محبت کی میں نے مقدار کیا بڑھائی
وہ تنگ دل تھا سو اس کا جلدی سے بھر گیا دل
اسماعیل راز