در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر
در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر
اٹھ جاتا ہے آہٹ پہ بھی ماتم مرے اندر
گونجے ہیں ابھی تک کسی مقتول کی چیخیں
قائم ہے ابھی خوف کا عالم مرے اندر
میں زد میں فسادوں کی اک آیا ہوا گھر ہوں
ہر چیز ہے اب درہم و برہم مرے اندر
اب کوئی خوشی مجھ میں پنپتی ہی نہیں ہے
آسیب کی صورت ہے ترا غم مرے اندر
میں ہجر کا مارا ہوں سو ہوتا ہے ہر اک شام
سورج کی جدائی پہ بھی ماتم مرے اندر
اسماعیل راز