یار یہ لوگ تو کہہ دیتے ہیں سب سے باتیں
یار یہ لوگ تو کہہ دیتے ہیں سب سے باتیں
میں کسی سے بھی کروں گا نہیں اب سے باتیں
دل وہ در ہے جو سر عرش بریں کھلتا ہے
روز کرتا ہوں میں دل کھول کے رب سے باتیں
فوقیت دیتا ہوں ہر بات کو خاموشی پر
دل پہ لے لی تھیں کسی شخص نے جب سے باتیں
حضرت عشق کا حجرہ ہے ذرا دھیان رہے
یاں شہنشاہ بھی کرتے ہیں ادب سے باتیں
اسماعیل راز