پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئے
پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئے
ہم خواہشوں کے ملبے میں دب کر مرے ہوئے
اے شخص تو نے غور سے دیکھا نہیں ہمیں
ہم لوگ تو وہی ہیں ترے رد کرے ہوئے
پی پی کے بھی وہ تجھ کو نہ آیا بہار پر
ہم ہیں کہ دیکھ دیکھ کے تجھ کو ہرے ہوئے
وہ خوش نصیب دل میں سجایا گیا اسے
ہم رہ گئے جہاں کے وہیں پر دھرے ہوئے
بیٹھے ہوئے ہیں سہم کے بزم جہاں میں ہم
کرتوت اہل بزم جہاں سے ڈرے ہوئے
اسماعیل راز