تیری محفل مری شرکت نہیں دیکھی جاتی
تیری محفل مری شرکت نہیں دیکھی جاتی
کئی آنکھوں سے یہ ساعت نہیں دیکھی جاتی
تیرے ہاتھوں کی مشقت پہ ترس آتا ہے
تیری زلفوں کی شرارت نہیں دیکھی جاتی
ڈر رہا ہوں کہ تکبر نہ کہیں دل میں پلے
دیکھنے والوں کی حیرت نہیں دیکھی جاتی
اپنے حق میں کسی دشمن کی طرح سوچتا ہوں
یعنی مجھ سے مری شہرت نہیں دیکھی جاتی
دل تو قائل نہیں تجدید محبت کا مگر
تیرے چہرے کی ندامت نہیں دیکھی جاتی
اسماعیل راز