دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتی
دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتی
اب تو تجھ سے بھی محبت نہیں کی جا سکتی
ظلم اتنے کیے اس نے کہ وہ اب قدموں میں
سر بھی رکھ دے تو مروت نہیں کی جا سکتی
پاس رہنا ہی تقاضائے محبت تو نہیں
اتنی سی بات پہ نفرت نہیں کی جا سکتی
جستجو میں تری میں جان بکف پھرتا ہوں
عشق میں خود سے محبت نہیں کی جا سکتی
ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے
اب کسی بات پہ حیرت نہیں کی جا سکتی
اسماعیل راز