9 اشعار

دل بے مدعا ہے اور میں ہوں

Dil be-muddaa hai aur mein hoon

دل بے مدعا ہے اور میں ہوں

«دل بے مدعا ہے اور میں ہوں» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے حسن سید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوں

نہ ساقی ہے نہ اب وہ شے ہے باقیمرا دور آ گیا ہے اور میں ہوں

ادھر دنیا ہے اور دنیا کے بندےادھر میرا خدا ہے اور میں ہوں

کوئی پرساں نہیں پیر مغاں کافقط میری وفا ہے اور میں ہوں

ابھی میعاد باقی ہے ستم کیمحبت کی سزا ہے اور میں ہوں

نہ پوچھو حال میرا کچھ نہ پوچھوکہ تسلیم و رضا ہے اور میں ہوں

یہ طول عمر نامعقول و بے کیفبزرگوں کی دعا ہے اور میں ہوں

لہو کے گھونٹ پینا اور جینامسلسل اک مزا ہے اور میں ہوں

حفیظؔ ایسی فلاکت کے دنوں میںفقط شکر خدا ہے اور میں ہوں

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں