دل بے مدعا ہے اور میں ہوں
کلام: حفیظ جالندھری
دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوں
نہ ساقی ہے نہ اب وہ شے ہے باقیمرا دور آ گیا ہے اور میں ہوں
ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)
مہمان شاعر: حفیظ جالندھری
دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوں
نہ ساقی ہے نہ اب وہ شے ہے باقیمرا دور آ گیا ہے اور میں ہوں