انتظار حسین کی آواز میں
کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا
کلام: عرش ملسیانی · محفل: ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہے عرش ملسیانی · 2026-11-01
کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیاترے آستاں کی تلاش میں میں ہر آستاں سے گزر گیا
کبھی مہر و ماہ و نجوم سے کبھی کہکشاں سے گزر گیاجو تیرے خیال میں چل پڑا وہ کہاں کہاں سے گزر گیا