کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا
کلام: عرش ملسیانی
کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیاترے آستاں کی تلاش میں میں ہر آستاں سے گزر گیا
کبھی مہر و ماہ و نجوم سے کبھی کہکشاں سے گزر گیاجو تیرے خیال میں چل پڑا وہ کہاں کہاں سے گزر گیا