انتظار حسین کی آواز میں
نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے
کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12
«نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سےٹکرا رہی ہے بات وہی میرے کان سے
سوتا رہا میں خوف کی چادر لپیٹ کرآسیب چیختے رہے خالی مکان سے