غزل 7 اشعار

کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا

Kabhi is makaan se guzar gaya kabhi is makaan se guzar gaya

کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیاترے آستاں کی تلاش میں میں ہر آستاں سے گزر گیا

کبھی مہر و ماہ و نجوم سے کبھی کہکشاں سے گزر گیاجو تیرے خیال میں چل پڑا وہ کہاں کہاں سے گزر گیا

ابھی آدمی ہے فضاؤں میں ابھی اڑ رہا ہے خلاؤں میںیہ نہ جانے پہنچے گا کس جگہ اگر آسماں سے گزر گیا

یہ مرا کمال گنہ سہی مگر اس کو دیکھ مرے خدامجھے تو نے روکا جہاں جہاں میں وہاں وہاں سے گزر گیا

جسے لوگ کہتے ہیں زندگی وہ تو حادثوں کا ہجوم ہےوہ تو کہیے میرا ہی کام تھا کہ میں درمیاں سے گزر گیا

میں مراد شوق کو پا کے بھی نہ مراد شوق کو پا سکوںدر مہرباں پہ پہنچ کے بھی در مہرباں سے گزر گیا

چلو عرشؔ محفل دوست میں کہ پیام دوست بھی ہے یہیوہ جو حادثہ تھا فراق کا سر دشمناں سے گزر گیا

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں