مقرر

صفانقوی

@SafaNaqvi572

1
پیش کردہ کلام
2
محفلوں میں شرکت
صفانقوی کی آواز میں

کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے

کلام: افتخارعارف · محفل: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف) · 2025-11-30

«کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے صفانقوی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہےموت رُسوا ہو چکی ہے زندگی سجدے میں ہے

وہ جو اک سجدہ علی ؑ کا بچ رہا تھا وقتِ فجرفاطمہؑ کا لال شاید اب اُسی سجدے میں ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹