کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے
کلام: افتخارعارف
کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہےموت رُسوا ہو چکی ہے زندگی سجدے میں ہے
وہ جو اک سجدہ علی ؑ کا بچ رہا تھا وقتِ فجرفاطمہؑ کا لال شاید اب اُسی سجدے میں ہے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہےموت رُسوا ہو چکی ہے زندگی سجدے میں ہے
وہ جو اک سجدہ علی ؑ کا بچ رہا تھا وقتِ فجرفاطمہؑ کا لال شاید اب اُسی سجدے میں ہے