7 اشعار

کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے

Karbala Ki Khaak Par Kya Aadmi Sajde Mein Hai

کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے

«کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے صفانقوی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہےموت رُسوا ہو چکی ہے زندگی سجدے میں ہے

وہ جو اک سجدہ علی ؑ کا بچ رہا تھا وقتِ فجرفاطمہؑ کا لال شاید اب اُسی سجدے میں ہے

سنتِ پیغمبرؐ خاتم ہے سجدے کا یہ طولکل نبیؐ سجدے میں تھے آج اک ولی سجدے میں ہے

وہ جو عاشورہ کی شب گُل ہو گیا تھا اک چراغاب قیامت تک اُسی کی روشنی سجدے میں ہے

حشر تک جس کی قسم کھاتے رہیں گے اہلِ حقایک نفسِ مطمئن اُس دائمی سجدے میں ہے

نوکِ نیزہ پر بھی ہونی ہے تلاوت بعد عصرمصحفِ ناطق تہِ خنجر ابھی سجدے میں ہے

اِس پہ حیرت کیا لرز اُٹھی زمین کربلاراکبِ دوشِ پیمبرؐ آخری سجدے میں ہے

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں