یادرفتگان کی آواز میں
حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے
کلام: عرش صدیقی · محفل: اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی · 2026-01-21
«حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔
حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہےتو مثل رگ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے
تو اہل نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر کیوںپہلو میں ترے کوئی زمانے سے کھڑا ہے