12 اشعار

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے

Hairan hoon ke yeh kaun sa dastoor-e-wafa hai

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے

«حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہےتو مثل رگ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے

تو اہل نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر کیوںپہلو میں ترے کوئی زمانے سے کھڑا ہے

لکھا ہے مرا نام سمندر پہ ہوا نےاور دونو کی فطرت میں سکوں ہے نہ وفا ہے

میں شہر و بیاباں میں تجھے ڈھونڈ چکا ہوںبے درد تو کس حجلۂ پنہاں میں چھپا ہے

ہم رکھتے ہیں دعویٰ کہ ہے قابو ہمیں دل پرتو سامنے آ جائے تو یہ بات جدا ہے

میں دوزخ‌ جاں میں بھی رہا محو تگ و تازاے خالق افلاک تجھے تو یہ پتا ہے

غم ہے کہ مسلسل اسی شدت سے ہے جارییوں کہنے کو اس عمر کا ہر لمحہ نیا ہے

ہر سمت ہوا تیز فضا تا بہ افق تنگدل ذرۂ صحرا ہے بگولوں میں گھرا ہے

کیوں جاگے ہوئے شہر میں تنہا ہے ہر اک شخصیہ روشنی کیسی ہے کہ سایہ بھی جدا ہے

اے داور محشر تجھے خود تیری قسم ہےانصاف سے کہہ دل کبھی تیرا بھی پھٹا ہے

محسوس کیا ہے کبھی تو نے بھی وہ خنجرغم بن کے جو ہر شخص کے سینے میں گڑا ہے

ٹھہرائے اسے عرشؔ کوئی کیسے جفا کیشجو مجھ سے الگ رہ کے بھی ہم راہ چلا ہے

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں