یادرفتگان کی آواز میں
ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے
کلام: عرش صدیقی · محفل: اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی · 2026-01-21
«ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔
ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتےیوں کشتۂ بیداد زمانہ تو نہ ہوتے
غم دل پہ شکست طلب جاں کا ہے بھاریمٹ جاتے تگ و تاز میں پسپا تو نہ ہوتے