8 اشعار

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے

Hum ghar hi mein rehte to tamasha to na hote

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے

«ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتےیوں کشتۂ بیداد زمانہ تو نہ ہوتے

غم دل پہ شکست طلب جاں کا ہے بھاریمٹ جاتے تگ و تاز میں پسپا تو نہ ہوتے

کھو جاتے کسی بادیۂ ہفت بلا میںخلقت میں مگر راندۂ دنیا تو نہ ہوتے

دنیا سے جو رکھتے کبھی دنیا سے روابطاپنے ہی زمانے میں یوں تنہا تو نہ ہوتے

ہو رہتے حرم کے تو جئے جاتے سکوں سےبدنام رہ دیر و کلیسا تو نہ ہوتے

آوارہ مزاجی کی سزا خوب تھی لیکنپا بستۂ خاک لب دریا تو نہ ہوتے

جیتے ہیں تو سب کھل گئے اوصاف جہاں پرمر جاتے تو اچھا تھا کہ رسوا تو نہ ہوتے

اونچا جو اٹھا رکھتے علم اپنی انا کااعلیٰ نہ سہی عرش پہ ادنیٰ تو نہ ہوتے

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں